ذرا سوچئے!
جو لوگ مشرک ٹھہرے جن کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیںلڑیں
اور جو ہمیشہ کیلئے جہنمی ہوئے یعنی مشرکین مکہ وہ کیا کرتے تھے وہ اللہ کو خالق،مالک
رازق،بارشیں برسانے والا،زندگی اور موت کا مالک سمجھتے تھے اور حج و عمرہ کرتے اور
نمازیں پڑھتے تھے،زکواۃ دیتے تھے، روزے رکھتے تھے، لیکن یہ تمام اعمال ان کے
کچھ کام نہ آئے کیونکہ وہ اللہ کے نیک بندوں کے بت بنا کر ان کے نام کی نذرونیاز
دیتے تھے ان کے لئے جانور ذبح کرتے تھے اور حصے نکالتے تھے تانکہ وہ انہیں اللہ
کے نزدیک کر دیں اور انہیں مصائب میں پکارتے تھے،پس نذرونیاز،قربانی،دعا
عبادت کی قسمیں ہیں جو وہ غیر اللہ کیلئے کرتے تھے،انہی کاموں کی وجہ سے وہ
مشرک ٹھہرے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنمی ہوئے۔
کہیں آپ بھی ویسے کام تو نہیں کر رہے؟
پوسٹ ڈسپلے
ای میل سروس
Sign Up for Updates
اعداد وشمار :
تعداد کتب: 15
اردو سافٹ ویئر: 2
کتب حدیث سافٹ ویئر: 7
اردو سافٹ ویئر: 2
کتب حدیث سافٹ ویئر: 7
زیادہ بار پڑھی گئی تحاریر
-
وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں (19-مريم:64) Click to Copy Text
-
نوح نے عرض کی کہ میرے پروردگار! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ ن...
-
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: "وقال ربكم ادعوني أستجب لكم" ”اور تمہارے رب کا...
-
کچھ لوگ غیب کے اثبات میں یہ آیات مبارکہ پیش کرتے ہیں ۔ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَجْتَبِ...
-
شعبی کہتے ہیں: میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرما...
-
عجیب بات ہے نماز سب کی سب عربی میں اور نیت اردو،پنجابی،سندھی اور پشتو میں؟ اگر واقعی ایسی کوئی نیت ہوتی تو وہ بھی عربی زبان میں ہوتی لیکن...
-
"رب کا وعدہ" فرمان باری تعالیٰ ہے: يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ ...
-
بیشک یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے (سورة الإسراء:09)
-
انسان پر سب سے اہم ترین فریضہ جو عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے رب کی عبادت کرے جس نے آسمانوں ، زمین اور عرش کو پید...
شرک و بدعت
Labels
Powered by Blogger.
















